پاکستان نے کلبھوشن سے متعلق بھارت کو ڈیڈ لائن دیدی

urdu tv onlineاسلام آ باد: پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لئے بھارت کو ڈیڈ لائن دے دی، اگر بھارت نے بروقت معلومات نہ دی تو ملاقات کرانا مشکل ہو جائے گا، پاکستان نے ڈیڈ لائن سے متعلق بھارتی ہائی کمیشن کو بھی آ گاہ کر دیا ہے۔ترجما ن دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کے معاملہ پر بھارت نے ابھی تک پاکستان کو اپنے جواب سے آگاہ نہیں کیا، پاکستان کی اوپن پالیسی نے لگتا ہے بھارت کو مشکل میں ڈال دیا ہے،ہماری ملاقات کرانے کی تمام تیاریاں مکمل ہیں،لگتا ہے بھارت میڈیا کو گفتگو کی اجازت اور کھلے انداز میں ملاقات کی آفر پر گھبرا گیا ہے،آخری وقت تک بھارت کے جواب کے منتظر رہیں گے۔ہفتہ کو ترجما ن دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کے معاملہ پر بھارت نے ابھی تک پاکستان کو اپنے جواب سے آگاہ نہیں کیا۔یہ نہیں بتایا گیا کہ دونوں خواتین کب اور کیسے پاکستان آئیں گی۔ پاکستان کی اوپن پالیسی نے لگتا ہے بھارت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان کے پاس بتانے کو کچھ نہیں، جو بتانا ہے بھارت نے بتانا ہے۔بھارتی جواب کے منتظر ہیں جو اب بھی نہیں ملا۔ہمیں جواب ملنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ بھارت کا مسئلہ ہے اگر وہ نہیں چاہتا کہ کلبھوشن کا خاندان اس سے مل سکے تو اس کی مرضی ہے۔ہماری ملاقات کرانے کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔لگتا ہے بھارت میڈیا کو گفتگو کی اجازت اور کھلے انداز میں ملاقات کی آفر پر گھبرا گیا ہے۔آخری وقت تک بھارت کے جواب کے منتظر رہیں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لئے ڈیڈ لائن دے دی۔اگر بھارت نے بروقت معلومات نہ دی تو ملاقات کرانا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان نے ڈیڈ لائن سے متعلق بھارتی ہائی کمیشن کو بھی آ گاہ کر دیا ہے۔اعلی سفارتی ذرائع کے مطابق کلبھوشن یادیو، بیوی اور والدہ سے ملاقات کا معاملہ پر کلبھوشن جادیو کو دفتر خارجہ میں لانے اور دیگر سیکیورٹی روٹس کے لیے وقت درکار ہے۔ اگر بھارت نے ہفتہ کی رات تک جواب نہ دیا تو ملاقات کرانا مشکل ہو جائے گا۔ بھارت کی جانب سے جواب کا انتظار ہے۔ کلبھوشن جادیو کیساتھ اہلخانہ کی ملاقات آخری ملاقات ہر گز نہیں ہے۔ دفتر خارجہ میں ملاقات کے حوالے سے تیاری مکمل ہے۔ ملاقات دفتر خارجہ میں رکھی گئی کیونکہ پاکستان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں۔اگر ہم چھپانا چاہتے تو بھارتی میڈیا کو کوریج کی پیشکش نہ کرتے۔ملاقات کا دورانیہ پندرہ منٹ سے ایک گھنٹے تک محیط ہو سکتا ہے۔ ایک ہی سفارتکارہو گا جو ائیرپورٹ سے ملاقات تک ساتھ رہے گا۔ سفارتکار وہی ہو گا جو بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات ہو گا۔دفتر خارجہ ملاقات کی تصاویر اور وڈیو جاری کرے گا۔میڈیا کی کوریج کے لیے خصوصی پاسز جاری کیے جائیں گے۔والدہ اور اہلیہ کی دفتر خارجہ آمد اور روانگی کی میڈیا کوریج کر سکے گا۔ کلبھوشن کے دو بچے ہیں۔بھارت نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ کلبھوشن ہے یا حسین مبارک پٹیل ہے۔ کلبھوشن نے دو مرتبہ اعترافی بیان ریکارڈ کروائے اور بغیر دباؤ کے ریکارڈ کروائے۔ ہندوستان نے کہا تھا کہ کلبھوشن کے والد اور والدہ ملنا چاہتے ہیں۔لیکن کلبھوشن نے اہلیہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  22 سال کی سیاسی جدوجہد ، بے پناہ سرمائے کا ضیاع اور منزل صرف وزارت عظمٰی۔۔۔۔۔۔۔ نامور کالم نگار کی جاندار تحریر ملاحظہ کیجیے