پاکستان کا دفاعی انحصار امریکہ سے روس اور چین کی طرف منتقل ہو رہا ہے،بھارت خوف کا شکار ہے کہ پاکستان کے روس سے تعلقات کیوں بہتر ہو رہے ہیں، وزیر دفاع کی وائس آف امریکہ سے گفتگو

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان اپنی خارجہ اور سیکیورٹی سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کر رہا ہے جس میں زیادہ تنوع ہو گا اور اس کے تحت پاکستان کی مسلح افواج جو تاریخی لحاظ سے اب تک امریکی ساخت کا فوجی سازو سامان استعمال کرتی رہی ہیں

اب زیادہ تر چین سے اور آنے والے برسوں میں روس سے اپنی ضرورت کا دفاعی سازو سامان حاصل کریں گی۔امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ چند برس قبل ہمارا روس کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ
ہوا تھا جس پر پیش رفت ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں  اسے کہتے ہیں تبدیلی۔۔۔ آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کے ناموں کو عمران خان نہیں بلکہ کون فائنل کرے گا؟ دنگ کر دینے والا نام سامنے آگیا

انہوں نے کہا کہ بہت سارے ہتھیاروں کے ایسے نظام ہیں جن کی پاکستان کی افواج کو ضرورت ہے۔ اس پر ہم بات چیت کر رہے ہیں، لیکن ہمارا جو پارٹنر ملک ہے روس، اس سے ہم نے ابھی تک ایسی کوئی درخواست نہیں کی ہے کہ ہمیں ہتھیاروں کے فلاں نظام چاہیءں جس درخواست کو انہوں نے مسترد کیا ہو۔ بھارتی اخبار اکنامک ٹائمز کی اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہ روس پاکستان کو ہتھیاروں کا نظام دینے کا ارادہ نہیں رکھتا، وزیر دفاع خرم دستگیر کاکہنا تھا کہ اخبار کی خبر درست نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس طرح کی خبریں ہندوستان کی سراسیمگی کو ظاہر کر رہی ہیں کہ پاکستان کے تعلقات روس سے کیوں بہتر ہو رہے ہیں کیونکہ بھارتیوں کا خیال ہے کہ صرف ہندوستان ہی سے روس کے تاریخی طور پر تعلقات ہو سکتے ہیں پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس خبر میں کوئی حقیقت ہونے کے بجائے پریشانی اور تشویش کا اظہار زیادہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب اس سوال کے جواب میں کہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کے بھارت کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں اور وہ اس کے ساتھ مل کر ہتھیاروں کے جدید نظام بنارہا ہے تو وہ پاکستان کو یہ نظام کیوں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجزیے ابھی قبل از وقت ہیں۔ پاکستان نے اب تک روس سے صرف کچھ ہیلی کاپٹر خریدے ہیں جو فراہم بھی ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد سے مسلح افواج کی تینوں شاخوں کی ضروریات پر روس سے تبادلہ خیال ہو رہا ہے اور ہم امید کررہے ہیں کہ عنقریب روس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا د ورہ کرے گا جس میں پہلی بار ان معاملات پر تفصیلی بات چیت ہو گی۔

مزید پڑھیں  dunya ke 500 ba asar afrad

مزید پڑھیں  رمضان میں زیادہ کھانے سے بچنے کے 9 طریقے کون کون سے ہیں؟ پڑھیئے ایک معلوماتی تحریر

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments