پاکستان کے ہسپتالوں میں موجود لاکھوں مریضوں کے کام کی خبر : پیشاب کی تھیلی کا متبادل آلہ تیا ر کر لیا گیا ، یہ کیسے کام کرے گا ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) انسان اپنی زندگی کے تمام امور اسی وقت خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکتا ہے جب وہ مکمل طور پر صحت مند ہو۔ اب میڈیکل سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے اور مختلف پیچیدہ امراض کے علاج کے لئے جدید طریقہ علاج متعارف کروائے جا رہے ہیں اور،

ساتھ ہی ساتھ پیچیدگیوں سے بچنے اور عوام میں امراض کے متعلق آگاہی بیدار کرنے کے لئے مختلف سیمینارز کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ سالہا سال کی محنت کے بعد اب مریضوں کو پیشاب کی نالی سے نجات دلوانے کیلئے ایک آلہ ایجاد کیا گیا ہے جس کے استعمال سے مریض دوبارہ ایک مکمل اور بھرپور زندگی گزار سکتا ہے۔ مریض ہر وقت پیشاب کی تھیلی کو اٹھائے رکھنے سے بہت پریشان ہوتا ہے۔ شرمندگی محسوس کرتا ہے مگر اب اس آلے کی بدولت اس کو ان تمام پریشانیوں سے نجات مل جائے گی، اسکے نفسیاتی مسائل کم ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی (جنگ گروپ آف نیوز پیپرز)، بشیر میڈیکل اینڈ کڈنی سنٹر اور میڈی کیمپ انٹرنیشنل کے زیراہتمام ہونے والے سیمینار بعنوان ’’ پیشاب کی تھیلی سے نجات، اب ممکن‘‘ میں کیا۔ سیمینار کی صدارت پروفیسر اینڈ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ آف یورالوجی، ڈائیلسز اینڈ کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجری، پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ گورنمنٹ امیر الدین میڈیکل کالج لاہور، جنرل ہسپتال لاہور، پریزیڈنٹ پاکستان ایسوسی ایشن آف یورالوجی سرجنز لاہور، پروفیسر ڈاکٹر محمد نذیر نے کی۔ دیگر مقررین میں چودھری عارف حسن (میڈی کیمپ انٹرنیشنل) پروفیسر ممتاز احمد، ڈاکٹر عنبر شاہین، ڈاکٹر سعید اور جمیل احمد (میڈی کیمپ) شامل تھے۔ میزبانی کے فرائض چیئرمین میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی واصف ناگی نے سرانجام دیئے۔

مزید پڑھیں  ’’کان کھول کر سن لو!لاہور ہائیکورٹ کیااگر سپریم کورٹ بھی کالا باغ ڈیم بنانے کا حکم دیدےتوپھر بھی کسی کا باپ بھی کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکتا‘‘ اسفندیار ولی بھارت کا خواب پورا کرنے کیلئے بہت آگے نکل گئے، جلسہ کی ویڈیو وائرل

تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول کی سعادت محمد خلیق حامد نے حاصل کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد نذیر نے بتایا کہ پہلے زمانے میں پراسٹیٹ کا آپریشن بہت لمبے پروسیجر سے ہوتا تھا اور مریض پیشاب کی تھیلی ساتھ لے کر چلتے تھے جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ سے تنگ آ جاتے تھے۔ محفلوں میں جانے سے گریز کرتے تھے اور میں سوچتا تھا کہ کیا اس سے مریضوں کو نجات مل سکتی ہے پھر 2010 میں ، میں نے خود اس پر کام کیا اور دو سال پہلے جرمنی نے آلہ ایجاد کیا جو کہ ایک بہت ہی اچھی پیشرفت ہے۔ ہمیں ایک چیز ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ علم طاقت ہے اور اسی کی بدولت ہم ایک زندہ قوم کی حیثیت سے سامنے آئیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس آلے کو سب سے پہلے لاہور میں لانچ کیا جا رہا ہے جس کے لئے میں عارف چودھری کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں۔ اب مریضوں کو پیشاب کی تھیلی سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔یہ آلہ ایک سادہ سی مشین ہے اور وہ مریض جو پیشاب کی تھیلی لگاتے تھے اب وہ اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ پیشاب کی تھیلی کی وجہ سے مثانہ پیشاب کے دبائو کو برداشت کرنے سے عاری ہو چکا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں  خوفناک ٹریفک حادثہ کئی افراد زخمی

روزمزہ کاموں کو سرانجام دینے میں مشکل درپیش آتی ہے، لوگ شرمندگی محسوس کرتے ہیں، صفائی کا خیال رکھنا مشکل محسوس ہوتا ہے، سماجی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے، کاروباری ذمہ داریاں سرانجام دینے میں مشکل پیش آتی ہے، چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے اکثر بوڑھے مریض ٹھوکر کھا کر گر جاتے ہیں۔ اب اس آلے کی بدولت ان تمام پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس کا استعمال پوری دنیا میں بہت تیزی سے ہو رہا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی بلیڈر کپسٹی کم ہوتی ہے یہ آلہ ایسے لوگوں کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔ پیشاب کی تھیلی کی وجہ سے مریض نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ سائیکاٹری کے آئوٹ ڈور میں زیادہ تعداد ایسے مریضوں کی بھی ہوتی ہے اور وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ایسے مریض دوسروں پر انحصار کرنے لگ جاتے ہیں۔اس آلے کو ایک ماہ تک استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے بیشمار فوائد ہیں۔ یہ فالج کے مریضوں کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ لاہور جنرل ہسپتال کا یورالوجی ڈیپارٹمنٹ اسٹیٹ آف دی آرٹ ہے۔ تمام ڈاکٹرز بہت محنتی ہیں اور انہی کی بدولت ہم بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے کہ ،

پورے پنجاب میں پہلی خاتون یورالوجسٹ لاہور جنرل ہسپتال میں بن رہی ہیں اور اب تک ہم 90 فیصد سے زائد مریضوں کے بغیر کٹ کے پتھری نکال چکے ہیں۔یہاں پر مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں تمام جدید ٹیکنالوجی و آلات موجود ہیں جو علاج یہاں کیا جاتا ہےپرائیویٹ ہسپتالوں میں اس علاج کی فیس لاکھوں میں ہے۔ اب ہم آرٹیفیشل کڈنی میں لانچ کرنے جا رہے ہیں جو کہ 2020تک میڈیکل مارکیٹ میں موجود ہو گی۔ واصف ناگی نے کہا کہ پیشاب کی تھیلی سے نجات ممکن ہے۔ ہمارے ہاں لوگ ایسے مریضوں سے ملنے سے گھبراتے ہیں۔ ان سے بات چیت کم کر دیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ایسا کرنے سے مریض نفسیاتی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ چودھری عارف حسن نے کہا کہ ان کی کمپنی کافی عرصے سے یورالوجی کے شعبے میں کام کر رہی ہے۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور مریض کو بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔پروفیسر ممتاز احمد نے میڈی کیمپ کو اس آلہ کی ایجاد پر مبارک باد پیش کی۔ ڈاکٹر سعید نے کہا کہ اگر آگاہی نہیں ہو گی تو مریضوں کو ہم اچھا اور معیاری علاج کیسے فراہم کریں گے۔ اس حوالے سے فیملی فزیشنز کے لئے الگ سے ورکشاپ کا انعقاد کرنا چاہئے تاکہ ان کو آگاہی حاصل ہو۔ ڈاکٹر عنبر شاہین نے کہا کہ وہ لاہور جنرل ہسپتال کے یورالوجی وارڈ میں گئیں اور انہیں بہت خوشی ہوئی کہ مریضوں کو مفت نہایت ہی عمدہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ (س)

مزید پڑھیں  ووٹ فار نظام مصطفیٰ ؐ ۔۔۔۔۔ ملک گیر سطح پر گھر گھر جا کر ووٹ مانگنے کی مہم کا اعلان کر دیا گیا

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments