پرویز رشیدنے ایک دفعہ پھر چوہدری نثار کوتنقید کانشانہ بناڈالا۔۔۔انتہائی اہم بیان دے دیا

اسلام آباد (نیوزڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنماء سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ چودھری نثار اسٹیبلشمنٹ کی راہ سے ہو کر اسمبلی میں آئے، ان سے اختلاف دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ہے کیونکہ کو ئی دہشت گرد مرتا ہے تو چودھری نثار غمگین ہو جاتے ہیں، پارٹی قیادت سے بھرپور مطالبہ کروں گا کہ چودھری نثار کو پارٹی سے نکال دیں،ڈان لیکس رپورٹ منظر عام پر آنی چاہئے لیکن بلوچستان پر قاضی عیسیٰ فائز کی رپورٹ بھی منظر عام پر آنی چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کیا۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ چودھری نثارکے انداز گفتگو سے کالعدم تنظیموں سے ہمدردی ظاہر ہوتی تھی، ایک کابینہ اجلاس میں کالعدم تنظیموں سے متعلق ان سے میری جھڑپ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ چودھری نثار نواز شریف کے خلاف جو باتیں کر رہے ہیں وہ کس کے کہنے پر کر رہے ہیں ۔ نواز شریف کے ساتھ نا انصافی ہوئی اور چودھری نثار اس معاملے پر کیوں نہیں بولتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے پارلیمینٹ کو گالیاں دیں جبکہ پارلیمینٹ کو گالیاں دینا اس ادارے کو گالی دینا ہے جو تمام اداروں کی ماں ہے۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ بلوچستان میں اچانک تحریک عدم اعتماد آنا شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے اورسازش کے اشارے اداروں پر نہیں افراد کی طرف جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے استعفیٰ کا اعلان کیا مگر استعفے دینے اسمبلی میں نہیں آئے۔انہوں نے کہا کہ 2012ء میں ہم نے طاہر القادری سے آصف زرداری کی حکومت بچائی لیکن اب آصف زرداری طاہر القادری کے ساتھ جا بیٹھے ہیں۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ڈان لیکس کی انکوائری بعد میں ہوئی مگر مجھے پہلے ہی نکال دیا گیا، ڈان لیکس رپورٹ منظر عام پر آنی چاہئے لیکن بلوچستان پر قاضی عیسیٰ فائز کی رپورٹ بھی منظر عام پر آنی چاہئے جس میں چودھری نثار کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  دبئی میں جائیدادیں خریدنے والے پاکستانی بڑی مشکل میں پھنس گئی