پنجاب حکومت نے منرل واٹر پر بڑی پاپندی عائد کردی

لاہور (نیوزڈیسک) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کوالٹی کے معیار پر پورا نہ اترنے والی کئی نامور کمپنیوں کے منرل واٹر کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے اور حیرت انگیز طور پر پابندی کا شکار ہونے والی کمپنیوں میں ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کے منرل واٹر کی فروخت کی شرح انتہائی زیادہ تھی۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق انہوں نے پنجاب کے کئی نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں فروخت ہونے والے منرل واٹر کے سیمپل اکٹھے کر کے ٹیسٹ کیلئے بھیجے ہیں اور نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی سے بھی پانی کے سیمپل حاصل کئے گئے ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق جن کمپنیوں میں منرل واٹر کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں ”ایکوا فینا، کنلی اور سپرنگلی“ شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کے لاہور میں فروخت ہونے والے منرل واٹر کے سیمپل اکٹھے کر کے پاکستان کونسل آف سائینٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ فار ٹیسٹنگ کو بھیجے گئے تھے۔ جن کمپنیوں کے منرل واٹر کے سیمپل بھیجے گئے تھے ان میں ”ایکوا فینا، صوفی، کینلی، ایکوا سیف، بلو واٹر، سپارکل، کنز، نعمت، بوٹل واٹر، پیور ڈرنکنگ واٹر، نیسلے پیور لائف، مری سپارکلیٹس، زم زم اور سپرنگلی“ شامل ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان تمام کمپنیوں کے منرل واٹر کوالٹی کے معیار پر پورا نہیں اترے اور صرف 11 کمپنیوں کے منرل واٹر کی کوالٹی اتنی تھی کہ انہیں کم از کم فروخت کی اجازت مل سکے۔ ٹیسٹ رپورٹس کے مطابق پابندی کا شکار کمپنیوں کے منرل واٹر میں جراثیم کیساتھ ساتھ ایسی معدنیات بھی پائی گئیں جو انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ان کمپنیوں کو فوری طور پر منرل واٹر بنانے اور مارکیٹ میں فروخت سے روک دیا ہے جبکہ مارکیٹ میں پہلے سے موجود سٹاک بھی واپس منگوانے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ کمپنیاں اپنی پراڈکٹ فروخت کرنے کیلئے دھوکہ دہی کی مرتکب ہو رہی تھیں تاہم پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ منرل واٹر کے معیار کو بہتر بنانے پر انہیں دوبارہ اپنی پراڈکٹ فروخت کرنے کی اجازت دیدی جائے گی۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  نئے سال کی آمد،شراب فروشوں نے کمائی کا منصوبہ بنا لیا