پولیس نے فیض آباد دھرنے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

 اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنے کے خلاف آپریشن سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی ۔ تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں اسلام آباد پولیس نے آپریشن کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کے مذہبی جذبات اُبھارے اور یہی بات دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن کی ناکامی کا سبب بنی۔رپورٹ میں پولیس حکام نے اعتراف کیا کہ آپریشن مطولبہ مقاصد حاصل کرنے کے بغیر ہی ختم ہو گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی ہمدردیاں دھرنے کے شرکا کے ساتھ تھیں اور وہ شرکا کے خلاف سخت اقدامات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ایک اور اہم بات جو اس رپورٹ میں بتائی گئی کہ دھرنا مظاہرین نے دھرنے کے اطراف میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی تاریں کاٹ دی تھیں جس کی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی کارروائی شدید متاثر ہوئی، عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں پولیس اہلکار دھرنے کی جگہ پر بیس دنوں سے تعینات تھے۔طویل ڈیوٹیوں کی وجہ سے پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز اور ایف سی اہلکار بھی کافی تھکن کا شکار تھے۔ دوسری جانب مظاہرین بھی ممکنہ آپریشن کے حوالے سے مکمل تیار تھے۔ دھرنے کے تمام شرکا مذہبی طور پر بھی دھرنا قائدین اور اپنے مذہبی رہنماؤں کے خطاب اور تقاریر سے متاثر تھے جبکہ ان کے پاس پستول ، ماسک ، آنسو گیس شیل، کلہاڑیاں، پتھر اور دیگر چیزیں بھی موجود تھیں۔رپورٹ میں پولیس حکام نے مزید بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کا استعمال کیا گیا جس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی ۔ چار گھنٹوں کے ابتدائی آپریشن کے بعد فیض آباد دھرنے کا اسی فیصد علاقہ خالی کروا لیا گیا لیکن اسی وقت راولپنڈی اور دیگر مقامات سے تحریک لبیک کے کارکنوں نے کئی اطراف سے پولیس اہلکاروں پر ڈنڈے اور پتھر برسائے۔جس کے نتیجے میں کئی پولیس افسران اور اہلکار سمیت دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے۔ شدید مزاحمت اور جانوں کے ضیاع کے خدشے کے پیش نظر پولیس نے آپریشن روک دیا ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 8 نومبر سے 25 نومبر تک دھرنے کے 418 شرکا اور مظاہرین کے خلاف 27 مقدمات درج کیے گئے۔ سکیورٹی پلان کے تحت 5 ہزار 508 سکیورٹی اہلکار دھرنے کے مقام پر تعینات تھے۔ جن میں سے 173 زخمی ہوئے ۔ البتہ کوئی سرکاری اہلکار ، افسر یا دوسرا شخص جھڑپوں کے دوران جاں بحق نہیں ہوا۔

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب نے بھی بچپن میں جنسی طور پر ہراساں کیا جانے کا انکشاف کر دیا