ڈیرہ اسماعیل خان کے بعد ایک اور واقعہ پنجاب کے اہم شہر میں پیش آگیا۔۔۔بیوہ عورت چند افراد کے ہتھے چڑھ گئی ایسا سلوک کیا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیںگے

اوکاڑہ (نیوز ڈیسک) نواحی گاؤں مہنت درشن میں بااثر افراد نے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرکے مبینہ طورپر چارہ چوری کرنے پر خاتون پر وحشیانہ تشدد کی انتہا کردی۔ نیم برہنہ حالت ہونے پر بالوں سے پکڑ کر، گلیوں میں گھسیٹتے پھرے ،خاتون انصاف کے لئے تھانے آئی تو پولیس نے کارروائی نہ کی۔ خاتون نے اپنے محلے داروں کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے ہیڈ سلیمانی، حویلی لکھا مین روڈ دو گھنٹے بلاک کردیا۔ دونوں جانب ٹریفک جام، انتظامیہ بے بس۔ خاتون صفیہ بی بی نے کہاکہ پولیس بااثر ملزمان سے ملی ہوئی ہے ، فوری نوٹس لے کر مقدمہ درج کیا جائے۔روزنامہ خبریں کے مطابق گزشتہ روز مبینہ طور پر نواحی گاؤں مہنت درشن کے بااثر زمیندار رائے اسلم کھرل کا چارہ کسی نے کاٹ لیا جنہوں نے شک کی بنیاد پر ساتھیوں، اشرف، اکرم، شعیب وغیرہ کے ہمراہ، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گاؤں ہذا کی رہائشی غریب بیوہ، صفیہ بی بی کے گھر داخل ہوگئے اور صفیہ بی بی سے کچھ پوچھے بغیر ہی وحشیانہ تشد د کا نشانہ بنانا شروع کردیا، تشدد سے صفیہ بی بی کے کپڑے پھٹ گئے، ملزمان صفیہ بی بی کو نیم برہنہ حالت میں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گلی میں لے آئے اور بڑھکیں لگائیں کہ جو ہمارا چارہ کاٹے گا اس کا حشر بھی اسی طرح کریں گے۔ کافی دیر تک ظلم و زیادتی کرنے والے ملزمان اہل دیہہ کی منت سماجت پر جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے۔بیوہ صفیہ بی بی حصول انصاف کے لئے تھانہ حویلی لکھا آئی تو کسی نے اس کی بات سننا ہی گوارہ نہ کیا اور نہ ہی میڈیکل کے لئے کسی کانسٹیبل کو ہسپتال بھجوایا گیا۔ جس پر دلبرداشتہ ہوکر صفیہ بی بی نے اہل دیہہ کے ہمراہ شدید احتجاج کرتے ہوئے ہیڈسلیمانکی، حویلی لکھا مین روڈ بند کردیا اور ٹائروں کو آگ لگا کر تھانہ حویلی لکھا پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ رپورٹ کے مطابق جب مقامی تھانہ حولی لکھا رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا ایس ایچ او محمود الحسن چھٹی پر ہیں جن سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون ا ٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  دو روز قبل قتل ہونے والی لڑکی کا ملزم پکڑا گیا۔۔ملزم کوئی اور نہیں بلکہ اپنا ہی