ڈیم کی تعمیر کے فنڈز کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کتنی کٹوتی ہوگی؟ نگران حکومت نے فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک )وفاقی کابینہ نے ڈیمز کیلئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی منظوری دے دی۔تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم جسٹس (ر)ناصر الملک کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ نے امن وامان اورالیکشن کی صورتحال پربریفنگ دی۔اعلامیہ کے مطابق نگران ارکان وفاقی کابینہ کاایک ماہ کی

تنخواہ ڈیم فنڈزمیں دینے کافیصلہ کیا ہے جبکہ گریڈ 17سے 22 تک کے افسران کی 2دن کی تنخواہ ڈیم فنڈزمیں دی جائےگی،اعلامیہ کے مطابق گریڈایک سے16 تک کے ملازمین ایک دن کی تنخواہ فنڈزمیں دیں گے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان کی ڈیمزکی تعمیر کیلئے فنڈ ریزنگ مہم جاری ہے جس میں قوم بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور اب تک کروڑوں جمع ہو چکے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب اس سے پہلے ڈیمز کی تعمیر کے لیے قائم کیے گئے ڈیمز فنڈز میں 18 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جمع ہو گئی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے پاکستان کے مہمند ڈیم اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے قائم کیے گئے ڈیمز فنڈز اکاؤنٹ میں پاکستانی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ڈیمز کی تعمیر کے لیے قائم کیے گئے اکاؤنٹ میں 18 کروڑ 59 لاکھ 63 ہزار 538 روپے کی رقم جمع ہو چکی ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، رقم جمع کرانے کے لیے بیرون ملک پاکستانی بھی پورے جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز قائم کرنے کے بعد اپنی ذاتی جیب سے دس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا، میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر شخصیات نے بھی فنڈز جمع کرانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔کوئٹہ کے نو سالہ علی شیر نے تو بازی ہی مار لی اور اپنی سائیکل اور کھلونوں کے لیے جمع کیے گئے دس ہزار روپے فنڈز میں جمع کرا دیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر کے لیے قائم کیا گیا فنڈز کسی کو کھانے نہیں دیں گے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے لیے پاکستانی عوام ملک بھر کی 16 ہزار بینک برانچوں میں اپنے عطیات جمع کرا سکتے ہیں۔ڈیمز کی تعمیر کے لیے بینک ملازمین نے اپنی ایک روز جب کہ فوجی افسران نے تین روز اور اہلکاروں نے ایک روز کی تنخواہ جمع کرانے کا اعلان کیا تھا۔(ز،ط)

دوستوں سے شئیر کریں