کام کام اور صرف کام:قائد اعظم محمد علی جناح کے نقش قدم پر چلنے والے چیف جسٹس ثاقب نثار کے حوالے سے تشویشناک خبر جو پڑھ کر آپ کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھ جائیں گے







لاہور (ویب ڈیسک) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار مسلسل 8 گھنٹے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے کورٹ روم نمبر ایک میں مفاد عامہ کے کیسوں کی سماعت کرتے رہے۔مسلسل سماعت کے وجہ سے ان کا شوگر لیول ڈاؤن ہوگیا جس پر چیف جسٹس نے کھجوریں کھائیں اور دور دراز سے آنے


مشتری ہوشیار باش ۔۔۔ ! ایموکسل اور آگمینٹن کا استعمال ترک کر دیں ، مگر کیوں ؟ محکمہ صحت کی جانب سے پاکستانیوں کیلیے بڑا اعلامیہ جاری کر دیا گیا

کپتان تیری جرات اور حوصلے کو سلام مگر ۔۔۔۔۔۔جاوید چوہدری نے بے پناہ تعریف کے بعد ایک سوال بھی عمران خان کے سامنے رکھ دیا، پڑھیے ایک مختصر مگر شاندار تحریر

بریکنگ نیوز: کیا صدر پاکستان ، نواز شریف کی نااہلی کو ختم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔۔؟ اگر ہاں، تو کیسے ۔۔؟ صبح صبح (ن) لیگیوں کے کام کی خبر آ گئی


والے سائلوں کی شکایات کا ازالہ کرتے رہے۔چیف جسٹس نے عملے سے کہا سائلوں کی بات غور سے سن کر درخواست کو فائل میں لگائیں۔یاد رہے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے غیر قانونی شادی ہال کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ شادی ہالزکے نام پر غیر قانونی قبضے کی اجازت نہیں دینگے، عدالت تعین کرےگی کہ شادی ہال کیلئے کم ازکم کتنی جگہ ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ رجسٹری میں غیرقانونی شادی ہالزسے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کسی غیر قانونی شادی ہال کو نہیں رہنے دیں گے،انہوں نے کہا کہ پہلے سے موجود شادی ہالزکوریگولرائزکرنے کی سفارشات کا جائزہ لیں گے،شادی ہالزکے نام پرغیرقانونی قبضے کرکے پلازے کھڑے کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت تعین کرےگی کہ شادی ہال کیلئے کم ازکم کتنی جگہ ہونی چاہیے۔دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار

امریکہ کی جانب سے سرزمین شام پر داغے گئے ٹوما ہاک میزائلوں کی اصل رینج کتنی ہے ؟ اسلامی ملک پر حملے کے دوران امریکی سائنسدانوں کے دعوؤں کا پول کھل گیا

نے وزراء اور سرکاری افسران کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں کے استعمال کا از خود نوٹس لے لیا۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی بریفنگ کے دوران لگژری گاڑیوں کے استعمال کا نوٹس لیا۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے ملک بھر کے وفاقی اور صوبائی محکموں سے لگژری گاڑیوں کے استعمال پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بتایا جائے کتنے وفاقی وزراء معتین کردہ حد سے زیادہ گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں اور کتنے سرکاری افسران کے زیر استعمال عہدے کے حساب سے متعین کردہ حد سے زائد لگژری گاڑیاں ہیں۔سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کے کابینہ سیکرٹریز اور وفاقی سیکرٹریز کابینہ کو رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے تمام صوبوں کے ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں کی بھی رپورٹ طلب کرلی ہے اور تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرار کو بھی 15 دنوں میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صحت اور تعلیم کی صورتحال خراب ہے اور افسران لگژری گاڑیوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔(ذ،ک)

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  حد بندی پر اعتراضات وصول کرنے کا عمل 24 اپریل تک جاری رہے گی:الیکشن کمیشن