کلبھوشن نے بھارت بارے ایسی بات کہہ دی کہ اب بھارت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا

اسلام آباد (نیوزڈیسک) بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات آج دفتر خارجہ میں کروائی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ملاقات کے وقت کلبھوشن اور اہل خانہ کے درمیان شیشے کی ایک دیوار حائل تھی جبکہ گفتگو انٹرکام کے ذریعے کی گئی۔ ملاقات میں کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ نے گرفتاری سے متعلق امور پر کلبھوشن سے گفتگو کی ۔ملاقات کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان دفتر خارجہ میں انڈیا ڈیسک کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فاریحہ بھی موجود تھیں جبکہ بھارت کی جانب سے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ موجود تھے ۔ جے پی سنگھ کو ایک الگ کمرے میں کھڑا کیا گیا جہاں سے وہ کلبھوشن یادیو اور ان کے اہل خانہ کو محض دیکھ سکتے تھے سن نہیں سکتے تھے۔ جے پی سنگھ کو ملاقات کے دوران بات کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔کلبھوشن کی اہلیہ نے اپنے شوہر کو تجویز دی کہ آپ بیان دیں کہ آپ ایران سے پکڑے گئے ہیں جس پر کلبھوشن نے ایسا بیان دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مجھے ماننے سے ہی انکار کردیا تھا ۔ میں ایک فوجی افسر ہوں اور اپنے بیان پر قائم رہوں گا۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ میرے ساتھ بہتر اور اچھا سلوک کیا جا رہا ہے۔ دوران ملاقات کلبھوشن ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ پر برہم بھی ہوئے۔کلبھوشن کی اپنے اہل خانہ سے ملاقات 41 سے 45 منٹ جاری رہی ۔ کلبھوشن کی والدہ کو ملاقات کے لیے اضافی دس منٹ دئے گئے۔ ملاقات ختم ہونے کے بعد بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر نے دونوں خواتین کو میڈیا سے دور رکھا اور بات کرنے سے منع کیا جس کے بعد کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ دفتر خارجہ سے روانہ ہو گئے۔
دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  قاتل کےلیے استثنیٰ؟