کمسن لڑکیاں اور ہیروئن کے ٹوکن ۔۔شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کی عین ناک کے نیچے کیا شرمناک کام ہو رہا ہے؟تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور اور شیخو پورہ میں پولیس کی زیر سرپرستی بچوں اور عورتوں کے ذریعے منشیات فروشی کا انکشاف، ہیروئن کی پڑیا کو ٹوکن کے خفیہ نام سے پکارا جانے لگا، منشیات فروشی کے اس مذموم دھندے کیلئے کراچی سے بھاری تعداد میں خواتین اور بچے بلوائے گئے ہیں،

منشیات فروش خاتون نے نجی ٹی وی رپورٹر کے سامنے تہلکہ خیز انکشافات کر ڈالے۔تفصیلات کے مطابق لاہور اور شیخوپورہ میں پولیس کی زیر سرپرستی بچوں اور عوتوں کے ذریعے منشیات فروشی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ نجی ٹی وی دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق منشیات فروشی کے اس مذموم دھندے کیلئے کراچی سے بھاری تعداد میں خواتین اور بچوں کو یہاں لایاگیا ہے

اور ہیرون کی پڑیا کو ٹوکن کے خفیہ نام سے پکارا جاتا ہے جو کہ گلیوں اور چوراہوں میں سرعام بک رہی ہے ،نجی ٹی وی دنیا نیوز کی ٹیم کی موجودگی میںپولیس نے منشیات برآمد ہونے کے باوجود مقدمہ درج نہ کیا، مقامی لوگوں کے مطابق 20 سے زائد چھوٹے بچے ، بچیاں اورخواتین ہیروئن کی پڑی جسے ٹوکن کہا جاتا ہے مارکیٹوں ، اہم چوراہوں اور گلیوں میں لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور خریدار آسانی سے لے جاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں  ’مجھے رشتہ پسندنہیں تھا، اس لئے لڑکے والے دیکھنے آئے تو میں ان کے سامنے بیٹھ کر سارا ٹائم۔۔۔

شیخوپورہ کے علاقے جاوید ٹائون،کوٹ پنڈی داس، فیروزوالا،امامیہ کالونی راناٹائون ،قلعہ ستار شاہ اور لاہور کے علاقے شاہدرہ ،بیگم کوٹ، داتادربار، سعید پارک، ملک پارک، چٹھہ کالونی منشیات فروشی کا گڑھ ہیں،جہاں سے منشیات کے عادی نوجوان ایک ٹوکن 200 سے 300 روپے میں خرید لیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ منشیات فروش مبینہ طور پر پولیس کو 40 سے 50 ہزار روپے ہفتہ دیتے ہیں اور اگر دوران گشت کوئی پولیس اہلکار وہاں چلا جائے تو ان کا حصہ علیحدہ ہوتا ہے ۔ دنیا نیوز کی ٹیم نےایک نشئی کی مدد سے کوٹ عبدالمالک میںسٹنگ آپریشن کرتے ہوئے وہاں موجود منشیات فروش بچوں سے ہیروئن کے ٹوکن خریدے اور پھر تھانہ فیکٹری ایریا پولیس کو اطلاع کرکے وہاں بلالیا ،تین پولیس اہلکار موٹرسائیکل پر سوار ہو کر وہاں آئے اوران ننھے منشیات فروشوں اور خواتین سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلی تاہم بار بار اصرار کرنے پر بھی پولیس نے جھگیوں اور گھروں کی تلاشی نہ لی جہاں پر بہت بڑی مقدار میںمنشیات کی مخبری تھی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اس مکروہ دھندے کیلئے خصوصی طور پر بچوں اور خواتین کو کراچی سے یہاں لایا گیا ہے ۔ ایک منشیات فروش خاتون سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ وہ پہلے منشیات فروخت کرتی تھی اب اس کے ساتھی کرتے ہیں وہ یہ دھندہ چھوڑ چکی ہے ۔ اس نے انکشاف کیا کہ وہ تھانہ فیکٹری ایریااور تھانہ فیروزوالا کے پولیس اہلکاروں کو منتھلیاں دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ انہیں موت کے اس کاروبار میں ایک پڑی فروخت کرنے کے عوض 50 روپے ملتے ہیں ۔

مزید پڑھیں  عطا اللہ قاسمی 2 سال میں 24 لاکھ کے بسکٹ اور چاہے پی گئے ، پی اے سی ذیلی کمیٹی میں انکشاف

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments