کچھ لوگ خود غائب ہو کر لاپتہ ظاہر کرواتے ہیں۔۔ فوج کن عناصر کو تحویل میں لیتی ہے۔۔ آرمی چیف نے اہم سوال کا جواب دے دیا

urdu tv online

: چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کچھ لوگ خود غائب ہوکرلاپتہ ظاہرکرواتے ہیں،ایجنسیاں صرف ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث عناصرکوتحویل میں لیتی ہیں،دھرناہوا تومیرے ذہن میں لال مسجد کا واقعہ بھی آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ آج منگل کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔آرمی چیف کی آمد پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس ہوا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ میرا ازلی یقین ہےکہ ہمارا کام صرف سرحدوں کی حفاظت ہے۔ آرمی چیف نےکہا کہ سیاستدان فوج کوسیاست میں مداخلت کاموقع نہ دیں۔ دھرنوں سےمتعلق فوج پرالزامات محض الزامات ہیں،کوئی حقیقت نہیں۔ سعودی عرب جاتےہوئے بھی اس حوالےسے ہدایات دیتا رہا۔دھرنےوالوں کے4 مطالبات تھے،پھروہ زاہد حامد کےاستعفے پرڈٹ گئے۔آرمی چیف نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی کی ذمےداری لگائی کہ دھرنےوالوں سےجان چھڑائیں۔ اگلے روزسعودی عرب جانا تھا،اسی وجہ سے دھرنے والوں کوہٹانا بہت ضروری تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپ لوگ ذہن سےنکال دیں کہ فوج سیاست میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ اس دوران سابق آرمی چیف راحیل شریف کی جانب سے اسلامی اتحادی فوج کا حصہ بننے سے متعلق سوال پوچھا گیا۔سوال کا جواب دیتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا کہنا تھا کہ راحیل شریف نجی حیثیت میں اسلامی اتحادی فوج کا حصہ بنے۔ اس معاملے میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے مزید کہا ہے کہ تاہم راحیل شریف کی جانب سے اسلامی اتحادی فوج کا حصہ بننا ایک مثبت عمل ہے۔ اسلامی اتحادی فوج اسلامی ممالک کیلئے فائدہ مند ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹ کی پورے ایوان کی کمیٹی کا خصوصی بند کمرہ اجلاس ہوا جو 5 گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ارکان پارلیمان کو قومی سلامتی اور خطے کی صورت حال پر بریفنگ دی۔س موقع پر ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی ایم او جنرل ساحر شمشاد مرزا، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور ڈی جی ایم آئی بھی موجود تھے۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے دھرنے سے متعلق سوال کیا جس کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ اگر ثابت ہوگیا کہ دھرنے کے پیچھے فوج تھی تو مستعفی ہوجاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا ہوا تو میرے ذہن میں لال مسجد کا واقعہ بھی آیا، میں نے ڈی جی آئی ایس آئی سے کہا کہ دھرنے والوں سے بات کریں، بات ہوئی تو پتہ چلا ان کے چار مطالبات ہیں، پھر وہ ایک مطالبہ پر آگئے، سعودی عرب جاتے ہوئے بھی دھرنے سے متعلق معلومات لیتا رہا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ارکان پارلیمان کو قومی سلامتی اور خطے کی صورت حال پر بریفنگ دی۔ یہ اجلاس اس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاک فوج کے سربراہ اور ڈی جی ملٹری آپریشنز نے سینیٹ کو بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی ایم او جنرل ساحر شمشاد مرزا، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور ڈی جی ایم آئی بھی موجود تھے۔ذرائع کے مطابق پاک فوج کے سربراہ نے سینیٹرز کو علاقائی و قومی سلامتی کی صورتحال خصوصا سعودی اسلامی فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت پر اعتماد میں لیا۔ بریفنگ کے بعد سوال جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے عسکری حکام نے جواب دیئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں لاپتہ افراد، فیض آباد دھرنے اور طالبان و داعش سے متعلق بھی سوالات ہوئے۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے دھرنے سے متعلق سوال کیا جس کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ اگر ثابت ہوگیا کہ دھرنے کے پیچھے فوج تھی تو مستعفی ہوجائوں گا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا ہوا تو میرے ذہن میں لال مسجد کا واقعہ بھی آیا، میں نے ڈی جی آئی ایس آئی سے کہا کہ دھرنے والوں سے بات کریں، بات ہوئی تو پتہ چلا ان کے چار مطالبات ہیں، پھر وہ ایک مطالبہ پر آگئے، سعودی عرب جاتے ہوئے بھی دھرنے سے متعلق معلومات لیتا رہا۔لاپتہ افراد کے حوالے سے سوال کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ لاپتہ افراد کی مختلف وجوہات ہیں، کچھ لوگ خود غائب ہو کر لاپتہ ظاہر کرواتے ہیں، ایجنسیاں صرف ان افراد کو تفتیش کے لئے تحویل میں لیتی ہیں جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔اجلاس میں آرمی چیف بار بار زور دیتے رہے کہ پارلیمنٹ ہی سب کچھ ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ آپ لوگ پالیسی بنائیں، ہم عمل کریں گے، ہم نے دیکھنا ہے، آج کیا ہو رہا ہے، آج کیا کرنے کی ضرورت ہے، ماضی میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔سینیٹ ہول کمیٹی میں ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فوجی عدالتوں نے اب تک 274 مقدمات کا فیصلہ کیا، 161 مجرموں کو سزائے موت جبکہ 56 کو پھانسی دی گئی۔ 13 مجرموں کو آپریشن ردالفساد سے پہلے جبکہ 43 کو دوران آپریشن پھانسی دی گئی۔ ذرائع کے مطابق بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 7 جنوری کو فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پر مقدمات پر کاروائی روکی گئی، 28 مارچ کو فوجی عدالتوں مدت میں توسیع کر دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد فوجی عدالتوں کو 160 مقدمات بھیجوائے گئے جن میں سے 33 پر فیصلہ سنایا گیا، 8 کو سزائے موت اور 25 کو قید کی سزا دی گئی، 120 مقدمات 19 نومبر 2017 کو فوجی عدالتوں میں بھیجوائے گئے۔بریفنگ کے اختتام پر صحافیوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سوال کیا کہ آرمی چیف صاحب آج آپ کا پارلیمنٹ میں دن کیسا گزرا آرمی چیف نے جواب دیا کہ دن بہت اچھا گزرا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری عمل کے ساتھ کھڑے ہیں، ملکی استحکام کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہے، فوج اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کر رہی ہے، ہم بیرونی سازشوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔سینیٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کے اس اہم اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ کی تمام گیلریاں بند کردی گئیں اور پریس لاونج کو بھی تالے لگ گئے جب کہ میڈیا کے کیمرے بھی اندر لانے پر پابندی رہی۔پارلیمان پہنچنے پر آرمی چیف کا استقبال ڈپٹی چیئرمین سینٹ عبدالغفور حیدری نے کیا۔ آرمی چیف سیدھے چیئرمین سینیٹ کے چیمبر میں گئے اور رضا ربانی سے ملاقات کی۔ بعدازاں ایوان کی جانب جاتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے گلی دستور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آرمی چیف سے کہا کہ یہ گلی دستور ہے۔ آرمی چیف اس پر سرسری نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  Riaz peer zada parliment agaye