کیا مسلمان کے لیے یوگا حرام ہے؟

ملائیشیاکی قومی فتویٰ کونسل نے یوگا کی ایسی مشق کو مسلمانوں کے لئے ممنوع قرار دی ہے جس میںجسمانی ورزش کے ساتھ کے ساتھ پوجا پاٹھ اورجنتر منتریا اشلوک کا جاپ بھی شامل ہو۔اس قسم کا یوگا کونسل کی رائے میں مسلمانوں کے لئے حرام ہے۔

کونسل کے چیئر مین داتو ڈاکٹر عبد الشکور حسین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یوگا کو جسمانی ورزش کے طور پر کرنے میں بظاہرمذہب کی نظر میں تو کوئی حر ج نہیں ہے بشرطیکہ اس میں پوجا اور منتروںکاجاپ شامل نہ ہو۔ لیکن اس سلسلہ میں دوسروں کو اپنی تقلید پر آمادہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔

انہو ں نے کہا ہندو فرقہ ہزاروں سال سے یوگا پوجا پاٹھ اور جنتر منتر کے جاپ کی آمیزش کے ساتھ کررہا ہے۔ اور ان کی اس عبادت کا مقصد اپنے آپکو بھگوان کے روپ میں ڈھالنا ہے۔

ڈاکٹر عبد الشکور نے کہا ہندوﺅں کے اس عقیدہ کے پیش نظر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے اس قسم کا یوگا کرنا قطعی نامناسب ہے۔ اسی لئے فتوی ٰ کونسل نے قرار دیا ہے کہ پوجا پاٹھ اور جنتر منتر کی جاپ کے ساتھ کیا جانے والا یوگا مسلمانوں کے لئے حرام ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں مسلمانوںکی قطعی حوصلہ ا فزائی نہیں کریںکہ وہ یوگا کو بطور ایک ورزش اپنائیں۔کیونکہ یوگا کے آسن لا محالہ طور پر اس قسم کی و رزش کرنے والو ں کو پوجا پاٹھ اور جنتر منتڑ کے جاپ کی جانب آماد ہ کرتے ہیں۔ اور یہ چیزیں یقیناًً خلاف اسلام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کسی شخص کواس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی کے عقیدہ کوخراب کرے، یا مذہب میں بگاڑ پیدا کرے۔ ڈاکٹر شکور نے پریس کانفرس میںبتایاکہ یوگاکومحض جسمانی ورزش کے طور پر ادا کرنے سے بھی کسی شخص کے،مذہب پر اس کے ایمان و اعتقاد میں خلل پڑسکتا ہے۔چنانچہ مسلمانوں کو یوگا پر عمل کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیں  نیوزی لینڈسے پاکستان ٹیم کو ایک بار پھر شکست

داتوشکور نے بتایا کہ اسلامی فتویٰ کونسل کے سامنے جب یہ مسئلہ اٹھایا گیا کہ مسلمانوں میںیوگا پر عمل کرنے کے بارے میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا یہ اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔۔؟ تو اس سلسلہ میں ملائشیا کی اسلامی فتویٰ کونسل نے فتوی ٰ جاری کرکے مسلمانوں پریوگاکرنے کی ممانعت کردی۔

در یںاثناءملائیشیا کی کیبن گسان یونیورسٹی کے اسلامک اسٹڈیز سینٹر کے پروفیسر زکریا اسٹاپا نے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ یوگا پر عمل کرہے ہیں تو فوری طور پرترک کردیں ، کیونکہ خدشہ ہے کہ اس طرح وہ اسلامی تعلیمات سے برگشتہ ہوجائیں گے۔

ڈاکٹر عبدالشکور نے مزید کہا کہ یوگا کو حرام قرار د ینے کا فتویٰ کونسل کے ارکان نے گذشتہ ماہ تفصیلی غور وخوض کے بعد جاری کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کونسل کے ارکان یوگا کے مقاصد اور خصوصاً تاریخی تناظر میں اس عمل کا جائزہ لیتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچے کہ یوگا کا اصل مقصدبھگوان جیسا ہوجانا ہے۔ چنانچہ کونسل نے یہ فیصلہ دیا کہ مسلمانوںکا یوگا کو اختیار کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے مسلمانوں کے عقائد متاثرہوسکتے ہیں۔

ا س سوال کے جواب میںکہ کیا اس فتوی ٰ سے ملائیشیا کے کثیرالنسلی معاشرہ ،خصوصاًغیر مسلم طبقہ میں اختلا ف پیدا نہں ہوگا ؟۔ انہوں واضح کیاکہ اس فتویٰ کا اطلاق صرف مسلم برادری پر ہے۔غیر مسلموں کے یوگا کرنے پرکوئی قدغن نہیں۔ یوں بھی فتویٰ کا اطلاق ہمیشہ مسلمانوں پر ہی ہوتا ہے۔اس لئے غیر مسلموں کوا س بارے میں کوئی سوال کرنے یا بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ جو چاہیں کرنے کےلئے آزاد ہیں ۔

ڈاکٹر شکورنے کہا البتہ مسلمان اس فتویٰ کے پابند ہیں۔ایک مرتبہ جب یہ فتویٰ شائع ہوگیاتو پھر یہ ملا ئیشیا کی ریاستی حکو متوں پر منحصر ہوگا کہ وہ کس طرح اس فتویٰ پر عمل درآمد کرتی ہیں، کیونکہ مذہبی امور ریاستی حکومتوں کے تحت ہیں۔

مزید پڑھیں  بریکنگ نیوز: پاکستان جیت گیا بھارت ہار گیا، بڑے مقابلے کا نتیجہ آپ کا دل خوش کر دیگا

اس مرحلہ پر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملا ئیشیا کوئی واحد ملک نہیں ہے جہاں یوگا کو حرام قرار دیا گیا ہے بلکہ یوگا کے خلاف سنگا پور اور مصر میں بھی ایسے ہی فتاویٰ جاری ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو نے سے باز رہیں جن میں شمولیت سے ان کے عقائدمجروح ہوتے ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یوں بھی ہمارا مذہب سختی سے اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ بہت سی ایسی ورزشیں ہیںجنہیں مسلمان بخوبی کرسکتے ہیں کیونکہ ہمار ا مذہب صحت مندطرز زندگی اختیار کرنے پر زور دیتا ہے، نماز پنجگانہ کی روزینہ ادائیگی اس کی بہترین مثال ہے۔

ادھر اس فتویٰ کے منظر عام پر آنے کے بعد ملائیشیاکی نو ریاستوں میں سے ایک ریاست کے حکمراں سلطان شرف الدین ادریس شاہ نے کہاہے کہ مسلمانوں پر یوگا کی پابندی لگانے سے پہلے ملائیشیاکے اس اعلیٰ ترین اسلامی ادارہ کو لازماً سب سے پہلے ملائیشیاکی وراثتی حکمراں سلطانوںکی کونسل سے رجوع کرنا چاہئے تھا۔

شاہ ادریس کے اس غیرمتوقع بیان سے شاہی حکمراں کونسل اور اسلامی کونسل کے درمیان پائے جانے والے اختلافات منظر عام پر آگئے ہیں۔

سلطان شرف الدین اور دیگر سات سلاطین نے س معاملہ کو ملائیشیا کے شاہ کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملائیشیا کی نو ریاستوں کے سلاطین میں سے کوئی بھی ایک سلطان پانچ سال کے لئے بادشاہ منتخب ہوتا ہے۔ اگرچہ شاہ ملائیشیا ایک روایتی حکمراں ہوتا ہے لیکن ملائی رسم اور رواج کے مطابق وہ دین اسلام کا علامتی سربراہ بھی ہوتا ہے ۔ اسکے علاوہ خود اپنی ریاست میں بھی سلطان کو مذہبی تقدس حاصل ہوتا ہے۔ تاہم موجودہ شاہ ملائیشیاسلطان میزان زین العابدین سمیت کسی سلطان نے برسر عام یوگا کے خلاف فتویٰ پر کوئی تبصرہ نہیںکیا ہے۔

مزید پڑھیں  ”کپتان سرفراز احمد تو میرے لیے یہ حیثیت رکھتے ہیں “حسن علی نے ایسی بات کہہ دی کہ سرفراز احمد انہیں فوری بلا کر گلے سے لگا لیں گے

ادھر ریاست سیلانگرکے حکمراں سلطان شرف الدین نے اپنے ایک اخباری بیان میں توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ ایسے کسی فتویٰ کے اعلان سے قبل ،جو عام لوگوں کے روزمرہ کے معاملات سے متعلق ہو ، حکمرانوں کی کونسل سے ضرور منظوری لی جائے گی۔

سلطان نے مزید کہا کہ چونکہ یہ فتویٰ ابھی تک ریاست سیلانگر کی ریاستی فتویٰ کمیٹی کو نہیں بھیجا گیا اس لئے اس فتویٰ کو ریاست میں نافذنہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی اس فتویٰ پر تفصیل طور پرغور کرے گی اور اس سلسلہ میں ریاست میں جاری یوگا سرگرمیوں کے بارے میں عجلت میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔ واضح رہے کہ فتویٰ کونسل کے فیصلہ کو جب تک ہر ملائیشیائی ریاست اپنے قومی یا شرعی قانون کا درجہ نہ دیدے ملائیشیا کے عام مسلمانوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

یہ پہلا موقعہ ہے کہ ملائیشیا کے کسی سلطان نے فتویٰ کونسل کے کسی فیصلہ پر تنقید کی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی ستائیس ملین آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ یعنی ملائی آبادی بے چون چرا اس فتویٰٰ کو قبول نہیں کرے گی۔

تاہم اس فتویٰ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائیشیا میں کٹر اسلامی روایات اب بھی آبادی کے غالب حصہ پر حاوی ہیں جبکہ اقلیتی ہندو اور چینی نسل کے طبقے مزید حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں۔ حال ہی میں فتویٰ کونسل نے لڑکیوںکی جانب سے مردانہ وضع قطع اختیار کرنے کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا تھا۔ملائیشیا کی حکومت بھی اسی قسم کے سخت اقدامات کرتی رہتی ہے۔ اس سال کے شروع میںحکومت نے غیر مسلموں کیے لئے لفظ اﷲکے استعمال پر پابندی لگادی تھی۔

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

کیٹاگری میں : Sports