کیا کوئی آپ کے موبائل فون کے کیمرے کے ذریعے آپ کی تصاویر اور ویڈیوز بنا رہا ہے؟ وہ بات جو آپ کو ہر صورت معلوم ہونی چاہیے

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی سے جب پوچھا گیا کہ وہ اپنے لیپ ٹاپ کے ویب کیم پر ٹیپ کیوں لگا کر رکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا ”میرا بہت سی باتوں کی وجہ سے مذاق اُڑایا جاتا ہے اور اس بات کی وجہ سے تو بہت ہی مذاق اُڑایا جاتا ہے، لیکن لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ جس طرح وہ اپنی کار کو لاک کرتے ہیں، رات کے وقت اپنے دروازوں کو تالا لگاتے ہیں اور الارم سسٹم کا استعمال کرتے ہیں اسی طرح یہ حفاظت بھی ضروری ہے۔“

دراصل جیمز کومی ہم سب کو یہ بتا رہے تھے کہ لیپ ٹاپ کا ویب کیمرہ، یا موبائل فون کا کیمرہ ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آپ کی جاسوسی ہوسکتی ہے، اور اسی لئے وہ اپنے لیپ ٹاپ کے کیمرے پر ٹیپ لگا کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی ناجائز طور پر ان کے کیمرے تک رسائی حاصل کرکے ان کی جاسوسی نہ کرے۔
آئی ٹی ماہر فیلکس کراس کی بھی یہی رائے ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا ”جب آپ کسی ایپ کو اپنا کیمرہ اور مائیکروفون استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو وہ ایپ آپ کے لیپ ٹاپ کا ویب کیمرہ اور سمارٹ فون کے فرنٹ اور بیک دونوں کیمرے استعمال کرسکتی ہے۔ آپ کوئی اور پروگرام استعمال کررہے ہوتے ہیں لیکن بیک گراﺅنڈ میں چلنے والی ایپ آپ کے کیمرے یا مائیکروفون کا کنٹرول سنبھال سکتی ہے، آپ کی تصاویر لے سکتی ہے اور آپ کو خبر کئے بغیر آپ کی ویڈیو بھی بناسکتی ہے۔ یہ تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہوسکتی ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں تو ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں کہ صارفین کی ویڈیو انٹرنیٹ پر لائیو سٹریم ہو گئی جبکہ انہیں خبر بھی نہیں تھی کہ کوئی انہیں لائیو دیکھ رہا تھا۔ اب یا تو آپ کسی ایپ کو کیمرے کے استعمال کی اجازت نا دیں، یا دوسری صورت میں کیمرے پر ٹیپ لگا کر رکھیں، تو ہی آپ کی بچت ہو سکتی ہے۔“

دوستوں سے شئیر کریں