کیپٹن روح اللہ کون تھے اور کس بات نے انہیں وطن کےلئے جان لٹانے پر مجبور کیا

کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم ہر رات اپنے بستر پر آرام کی نیند سوتے ہیں تو اس کے پیچھے کون ہے یقینا ہماری سپاہ جو اپنی جان ہتھیلی پر لئے قربانی سے دریغ نہیں کرتی اور اس وطن کی حفاظت کے لئے ہر حد تک چلی جاتی ہے ۔ پاکستان کو اللہ نے بے حد قربانیوں کے بعد دیا اور اس پر اللہ کا خاص کرم ہے اس ارض وطن پر کئی بار جارحیت کی گئی اور ہمیشہ اللہ نے اس وطن کی حفاظت فرمائی ۔ مشرف جیسے بزدل اور نامرد جرنیل کی وجہ سے فوج کو بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے بزدلانہ فیصلہ سے پاکستان کو دہشت گردی جیسے عفریت کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے کئی گھرانے تباہ ہوگئے اور پاکستان کو بے تحاشہ نقصان ہوا ۔

مزید پڑھیں  دو دن بعد چینی خلائی اسٹیشن زمین پر کہاں گرے گا؟اور اس سے کتنی بڑی تباہی ہو گی؟

انہی جوانوں میں سے ایک جوان کیپٹن روح اللہ شہید بھی ہیں۔کیپٹن روح اللہ کی بے مثل بہادری نے سینکڑوں گھر برباد ہونے سے بچا لئیے۔کیپٹن روح اللہ شہید کی قربانی کی داستان ،آپ بھی عش عش کر اٹھیں گے۔24اور 25اکتوبر کی درمیانی رات جب دہشتگردوں نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ سینٹر کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا تو کیپٹن روح اللہ نے کلئیرنس آپریشن کی کمانڈ کرتے ہوئے دہشتگردوں کو عبرت کا نشانہ بنانے کی ٹھان لی۔

مزید پڑھیں  دنیا بھر میں معروف و مقبول آئی فون بنانے والی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی “ایپل” کے مستقبل کے حوالے سے کیا ارادے ہیں؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

پولیس ٹریننگ سنٹر میں اس وقت 600افراد موجود تھے۔کیپٹن روح اللہ کامیاب سے آپریشن کرتے ہوئے ٹریننگ سینٹر کو کلئیر کرواتے رہے تا ہم ایک کمرہ جہاں لگ بھگ 150 لوگ یرغمال بنائے گئے تھے اس کمرے کو کلئیر کروانا ایک خاصا مشکل کام تھا لیکن قوم کے اس بیٹے نے ہمت نہ ہاری اور اس کمرے پر دھاوا بول دیا۔اپنی موت کو سامنے دیکھ کر دہشتگردوں نے بزدلانہ حرکت کرتے ہوئے خود کش دھماکے سے اڑا دیا۔جس میں کیپٹن روح اللہ شہید ہو گئے۔آج کی تقریب میں کیپٹن روح اللہ شہید کا تمغہ جرات انکی والدہ نے وصول کیا۔

مزید پڑھیں  رات گئے پولیس کا چھاپہ، مدرسے سے 52 لڑکیوں کو چھڑا لیا گیا، وہاں ان سے کیا شرمناک کام کروایا جاتا تھا؟ جان کر تمام والدین کانپ اُٹھیں

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments