Bharti se pehle jinsi ziadti ka nishana banaya jata hai

جکارتہ(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں افواج اور پولیس میں بھرتی کرتے وقت مردوخواتین امیدواروں کی صحتمندی کو یقینی بنانے کے لیے کئی طرح کے ٹیسٹ تو کیے جاتے ہیں لیکن انڈونیشیاءمیں پولیس اور فوج میں بھرتی ہونے والی خواتین کے ساتھ ایک ایسا شرمناک کام کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے کہ دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیاءمیں خواتین کو فورسز میں بھرتی کرتے وقت ان کے کنوارپن کا ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے اور جو لڑکی کنواری نہ ہو اسے مسترد کر دیا جاتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ”حالانکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اعلان کر چکی ہے کہ کنوار پن کے ٹیسٹ کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔ اس کے باوجود انڈونیشیئن حکام خواتین کے ساتھ یہ ناروا سلوک اختیار رکھے ہوئے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے شعبہ وومنز رائٹس کی ڈائریکٹر نیشا ویریا کا کہنا تھا کہ ”سکیورٹی فورسز کی طرف سے خواتین کا یہ توہین آمیز ٹیسٹ کرنے پر انڈونیشیئن حکومت کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی عزم نہیں رکھتی۔یہی وجہ ہے کہ ذہنی صحت جانچنے اور اخلاقی وجوہات کی آڑ میں انڈونیشیاءکی سکیورٹی فورسز بھرتی ہونے کے لیے آنے والی ہر خاتون کے ساتھ یہ ہتک آمیز سلوک کر رہی ہیں۔“

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  دھرتی کا بوجھ :دبئی میں ایک ایسے پاکستانی کو سزائے موت سنا دی گئی جس کی تفصیلات جان کر آپ کو ذرا بھی ملال نہیں ہو گا