Eجب مشہور زمانہ کرکٹر وسیم اکرم کو لاکھوں روپے جرمانہ کی سزا سنا دی گئی تو انہوں نے عدالت میں کیا موقف اختیار کیا تھا ؟ سوئنگ کے سلطان کی زندگی کا ایک یادگار واقعہ ملاحظہ کیجیے

لاہور(ویب ڈیسک)وسمی اکرم کے علاوہ جن دیگر کھلاڑیوں پر سزاؤں اور جرمانوں کا اطلاق کاد گاک۔اس کے مطابق سلمو ملک پر10لاکھ،مشتاق احمد پر 3لاکھ،عطاء الرحمن،وقار یونس، انضمام الحق، اکرم رضا اور سعدا انور پر ایک ایک لاکھ روپ جرمانوں کی سفارش کی گئی۔ بعدازاں اس فصلے کے خلاف وسمو اکرم نے بورڈ مںو اپلی کی کہ وہ بے قصور ہے اس پر جرمانہ کوسں کا گاں ہے۔

جسٹس قوپم کے فصلے پر بعض ناقدین نے حررت و تنقد بھی کی، تاہم یہ سوال معمہ بن گا اور اس سے بعض شبہادت کو تقویت بھی ملی کہ وسم اکرم ایک بار اثر شخص ہے۔اگر سٹے بازی اور مچل فکسنگ کا معاملہ عالمی حتضا نہ اختاکر کرجاتا تو وسمن اکرم اس دباؤ سے چکنی مچھلی کی طرح نکل جاتا۔ وسمے اکرم کے مخالفن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خلاف ثبوت نہںا چھوڑتا۔ وسم اکرم کے خلاف اس کے مخالفند کا یہ رویہ سوائے حسد و بغض کے کچھ نہںھ ہے۔وسمف اکرم جواری اور اس قدر توانا اور پر اسرار شخص ہوتا تو برڈ کبھی بھی اسے مختلف اوقات مںا خوار کرنے کی کوشش نہ کرتا۔وسما اکرم کے قرییں حلقے کہتے ہںر کہ اسے معتوب وسزا وار کہلوانے مںد سلما ملک اور اس کی دوستی کا بڑا ہاتھ ہے۔وسمن اکرم اور سلمؤ ملک کے درماکن دانٹ کاٹی دوستی تھی۔ سلمی ملک پر جب بھی سٹہ بازی کے الزامات لگے وسمھ اکرم نے اس کا دفاع کاا بلکہ کئی بار اس سے جھگڑبھی پڑا لہٰذا ایک برے آدمی کی قربت کا یہ فضز تو ملنا تھا۔جسٹس قومم کے فصلے مںک بعض ایسے نکات بھی سامنے آئے جن پر ناقدین نے کہا کہ فصلہ مںت کچھ باتںی بہت حراان کن ہںم۔

مزید پڑھیں  PSL Draftign , Khilarion ka elan

جن کا مقصد دراصل وسما اکرم کو بچانا ہے۔راشد لطفے جس نے سٹے باز کرکٹرز کے معاملے کو ا بھارنے اور منظر عام پر لانے مںا مرکزی کردارادا کار تھا اس نے فصلے پر خوشی ظاہر کی اور کہا۔’’مجھے خوشی ہے کہ آخر کارانصاف مل گات،گزشتہ چند برسوں مںر مرما کرکٹ کرائرد تباہ ہوا لکنا اب مجھے اس کا صلہ مل گاش ہے کورنکہ رپورٹ کو خواہ کسی نظر یا زاویہ سے دیکھا جائے اس کا مجموعی تجزیہ ییا کہتا ہے کہ بنہ الاقوامی کرکٹ مںر مچر فکسنگ ہو رہی ہے اور مرنا موقف اس حوالے سے درست تھا۔ پی سی بی کے سربراہ اور جسٹس ملک محمد قومم اس فریضے کی انجام دہی پر بلاشک وشبہ تعریف کے مستحق ہںس‘‘۔راشد لطفف نے عطاء الرحمن پر تاحا ت پابندی کے فصلے کو حرجان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ وجوہات سمجھ مںم نہںی آتںح کہ اس کے خلاف یہ فصلہ کوےں صادر کا گاج ہے۔اگریہ فصلہ اس کے حلفہ بارن مںش اس اقرار کے بعد کاک گاٹ ہے کہ اس نے وسمر اکرم سے رقم لی تھی تو پھر جس شخص نے اسے یہ رقم دی تھی اسے تاحا ت پابندی سے کواں مستثنیٰ رکھا گاہ؟عدالتی فصلہ آنے سے قبل کمشنی کے سربراہ نے برطانوی اخبار ڈییھ ٹیرد گراف کو ایک انٹرویو مںت بتایا تھا کہ

سلمن ملک اور مشتاق احمد پر تاحاات پابندی یک تجویز ہے ۔مذکورہ اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق عدالتی کمشنف کے سربراہ جسٹس ملک محمد قوبم نے سلما کا نام براہ راست لتےا ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک ایسا کھلاڑی ہے جس کے خلاف انہوں نے تاحامت پابندی کا فصلہ دیا ہے۔جسٹس قوبم نے وسمو اکرم کے بارے مںع کہا کہ وہ بھی سزا سے مستثنیٰ نہںز ہے۔تاہم اس وقت کسی بھی جگہ عطاء الرحمن پر پابندی کا تذکرہ نہںس کا گال تھا اور نہ ہی کسی اور طرف سے اس بارے مںے سن گن ملی تھی کہ عطاء کے خلاف کوئی ایسا فصلہ کار جارہا ہے۔جنرل توقر ضارء کے بافنات کے بارے مںت جسٹس قومم نے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اسے کس طرح دیکھ رہے ہںف۔وہ ایک مخصوص زاوئےس سے اس رپورٹ کو دیکھ رہے ہںا حالانکہ اسے دیکھنے کا ایک مختلف زاویہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم مںک اس بات سے نا واقف ہوں کہ وہ اس کا جائزہ کس زاویے سے لے رہے ہںا۔ایک بات کہنے مںل وہ بالکل درست ہںر کہ پوری ٹمح نے اجتماعی طور پر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مچے فکسنگ نہںا کی ہے۔جسٹس قوسم نے یہ انکشاف بھی کاو کہ پی سی بی کے سربراہ نے ان سے ملاقات مںا وعدہ کال تھا کہ

مزید پڑھیں  انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل قومی ٹیم کو بڑا دھچکا لگ گیا۔۔۔اہم ترین کھلاڑی کی شرکت مشکوک ہونے کی خبر آگئی

وہ مکمل رپورٹ منظر عام پر لے آئںا گے مگر حراان کن بات یہ ہے کہ آخر وہ کوعں رپورٹ کے مندرجات پر اس کی اشاعت سے قبل ہی تبصرہ کررہے ہںہ۔مںی اسی بات پر حرقان ہوں کہ انہںس رپورٹ کی اشاعت کے بعد ان چزٹوں پر بات کرنا چاہےت تھی۔برطانوی اخبار نے یہ بھی لکھا تھا کہ اگررپورٹ مںا تبدیی کی گئی اور جسٹس قوفم نے اپنے فرائض کی انجامی دہی مںو کسی قسم کی مداخلت یا تبدییت محسوس کی تو آئی سی سی کے پاس اس کے سوا کوئی متبادل راستہ نہ ہو گا کہ وہ پاکستان کو بنت الاقوامی کرکٹ سے باہر کر دے کوےنکہ کھلہ کی گورننگ باڈی یہ اعلان کر چکی ہے کہ عدم تعاون کی صورت مںب کسی بھی ملک کو پابندی کا سامنا ہو سکتا ہے.ان دنوں پی سی بی کے سربراہ کا موقف یہ کہ آئی سی سی کے قواننو کا اطلاق ان باتوں پر قطعی نہںن ہو گا جو کہ ماضی مںڈ ہو چکی ہںا۔پاکستان مںن ہونے والی انکوائری ایک پرانا قصہ ہے اور آئی سی سی کے فصلے کا اطلاق اس دن سے ہو گا جب یہ فصلہ کان گان تھا۔ یوں بھی پاکستان مںا ہونے والی تحققس آئی سی سی کے دائرہ اختاہر مںی نہںم آتی اور یہ پی سی بی پر منحصر ہے کہ وہ جج کی رپورٹ پر کان کارروائی کرتا ہے اور کسی طرح سفارشات پر عمل درآمد ہوتا ہے۔دنارئے کرکٹ مںن تہلکہ مچانے والے بائں بازو کے باؤلروسم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھلہ کر اسے خراباد کہا مگرکرکٹ کے مدلان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائکخ کے شہہ سوار ہںا۔وسما اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حتنس مںئ لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ مںر اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ مںر عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لکنا دناقئے کرکٹ مںح انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمزا زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پشی کررہا ہے۔(ش،ز،خ)

مزید پڑھیں  ڈئیر میسی : ایسے تو نہ کرو۔۔۔۔۔فلسطینی بچوں نے مشہور زمانہ فٹبالر لیونل میسی کو خط میں کیا کچھ کہہ ڈالا ؟ پڑھیے

دوستوں سے شئیر کریں