Eعدنان سمیع خان کی جانب سے بھارت کی چاپلوسی اور ان کے ماضی بارے میں ایک دلچسپ رپورٹ پڑھیے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آج کل دنیا بھر میں کتے پالنے کا رواج عام ہو رہا ہے۔بڑے گھروں میں اعلیٰ ترین غیر ملکی نسل کا مہنگا ترین کتا پالنا ایک کلچر بنتا جا رہا ہے۔ لیکن کتے کی خرید اور پرورش میں بھی اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ یہ کسی آوارہ اور خراب نسل سے تو نہیں۔

کیا اس میں پالتو اور گھریلو کتا ہونے کی تمام نشانیاں موجود ہیں۔ کیا اس کی تولید میں کوئی مسکنگ تو نہیں کی گئی یا پھر کیا یہ خالص فلاں نسل سے ہے بھی یا نہیں؟۔ ایسا جاننا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ اچھے ،معیاری نسل کے کتے کے طور اطوار اور عادتیں بھی اچھی ہوتی ہیں لیکن بد نسل اور گھٹیا معیار کی نسل کے کتے کے عزائم اور اس کا رہن سہن بھی گھٹیا ہوتاہے۔اچھی نسل کے کتے مالک کے وفادار بھی ہوتے ہیں اور گھر کی املاک کو کبھی نقصان نہیں پہنچاتے۔لیکن بد نسل کتے سے کوئی بھی توقع کی جاسکتی ہے۔مثال کے طو ر پر برتنوں میںز منہ مارنا۔۔وقت بے وقت چیزیں چرا کر کھانا، گھر کے احاطے میں پیشاب کرنا، آوارہ کتوں کے ساتھ گھومنے کےلئے باہر نکل جانا یا گھر کے کسی فرد کو ہی کاٹ کھانا وغیرہ وغیرہ۔ جب کہ اچھی نسل کا کتا پیدائشی طو ر پر ان تما م خوبیوں کا حامل ہوتا ہے۔اب ہم گفتگو کا موضوع ذرا بدلتے ہیں۔ پاکستان میں 90کی دہائی میں ایک گلوکار عدنان سمیع خان نے بچوں کے پروگراموں سے آگے بڑھ کر اپنے گانوں کی بدولت اپنے ملک میں شہرت پائی اور خوب نام بنایا۔

مزید پڑھیں  بادشاہ ننگا ہے ۔۔۔یہ حقیقت سب کو معلوم تھی مگر سب خاموش تھے ۔۔۔۔۔پڑھیے ایک سبق آموز قصہ

انھیں ان کے بے پناہ موٹاپے کے باوجود ایک فلم میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ان کی شادی مشہور زمانہ اداکارہ سے ہوئی اگرچہ اس شادی کا بھی وہی انجام ہوا جو بیشتر فنکار جوڑوں کی شادی کا ہوتا ہے ۔تاہم اس گلوکار کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے میں انکے ملک اور ان کے ہم وطنوں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ شادی شدہ زندگی میںبدترین ناکامی کا سامنا ہونے پر عدنان سمیع خان بھارت چلے گئے اور وہاں جا کر جلد ہی برسات کی طرح برسنے والی دولت اور چکا چوند شہرت نے انھیں ان کا ماضی بھولنے میں تو مدد دی ہی۔کچھ عناصر نے انھیں ان کے آبائی دیس کے خلاف زہر اگلنے کےلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جیسے کو ہی سال ختم ہوتا ۔عدنان سمیع خان کو بھکاریوں کی طرح ممبئی پاسپورٹ آفس کے باہر کھڑا ہونا پڑتا۔انکو بھارت میں رہنے کی اجازت ملنے کے لالے پڑے رہتے ۔کمائی اور شہرت کا ذریعہ ختم ہونے کی فکر ستانے لگتی تو پھر پاکستان دشمن عناصر ان کا بھرپور استعمال کرتے۔ایک بار تو ایسا بھی ہوا جب انھیں بھارت چھوڑنے کا حکم مل گیااور یہ اپنا بوریا بستر باندھ ہی رہے تھے کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے انھیں بلوایا اور پاسپورٹ جاری کیا۔

اتنی دیر میں انھیں ایک پیغام ملا کہ اگر بھارت میں رہائش کےلئے تو سیع چاہیے تو یہ پاسپورٹ واپس منہ پر مار کے آﺅ”۔ موصوف نے خوشی کے مارے حکم بجا لاتے ہوئے پاکستانی ہائی کمیشن کا رخ کیا اور بنا کچھ کہے وہاں پر اپنا پاسپورٹ پاکستانی افسر کی جانب توہین آمیز انداز میں پھینک کر واپس آگئے۔جس پر پاکستانی حکومت نے انھیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کے پاکستان داخلے پر پابندی لگا دی۔ اس کے بعد سے گلوکار نے اپنے آقاﺅں کو خوش کرنے کی کچھ ایسی بھونڈی کوششیں شروع کر دی ہیں کہ پاکستانی تو پاکستانی خود بھارتیوں کو بھی ان کی کھوکھلی چرب زبانی اور چاپلوسی پر ہنسی آنے لگتی ہے اور وہ تلوے چاٹنے کی اس کوشش کی نیت کو بہت جلد بھانپ جاتے ہیں۔اڑی واقعے پر عدنان سمیع خان نے پاکستان کی مخالفت اور بھارت کی طرفداری کی۔ اس کے بعد حال ہی میں سنیپ چیٹ کے سی ای او کی جانب سے بھارت کو غریب ملک قرار دیے جانے پر موصوف کو زبان نکال کے جوتے چاٹنے کا ایک اور نادر موقع ہاتھ آگیا جب انھوں نے کہا کہ اگر سنیپ چیٹ غریب بھارتیوں کےلئے نہیں ہے تو اب میں بھی اسے آئندہ استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کراتا ہوں۔

مزید پڑھیں  پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری: عمران خان وزیراعظم، ظفر اللہ جمالی صدر ِ پاکستان اور اسپیکر قومی اسمبلی میاں محمد سومرو۔۔۔۔قومی اخبار نے تہلکہ خیز خبر بریک کر دی

صاف ظاہر ہے کہ اگر وہ یہ چاٹا چاٹی نہ کریں تو ان کا حال بھی فواد خان، عاطف اسلم، علی ظفر ،مائرہ خان اور دیگر پاکستانی فنکاروں جیسا ہو۔ لیکن انھوں نے کمال مکاری اور ہوشیاری سے خود کو بھارت میں ایڈ جسٹ کیا ہوا ہے۔کہتے ہیں کہ عدنان سمیع خان کی والدہ آمریت کے دور میں کسی مشہور زنامہ جرنیل کی رکھیل تھیں۔ اور اس کے بستر کی علی الاعلان زینت بنی رہتی تھیں۔کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے شادی بھی نہیں کی تھی۔ لیکن صرف جرنیل صاحب سے تعلقات کی بنا پر خاصی بااثر خاتون تھیں۔ لیکن یہ شادی نہ ہونے کا تاثر درست نہیں کیونکہ بعد میں پتہ چلا کہ ان کے والد صاحب پاکستان میں کسی پر کشش عہدے پر بھی فائز رہے۔ تاہم مرنے کے بعد اب وہ بھی بھارت میں دفن ہیں۔ لیکن ان کی والدہ کے کسی جرنیل سے ناجائز تعلقات کی بات کو جھٹلانے کو کوئی تیار نہیں۔شاید گلوکار خود بھی نہیںاس لیے انھوں نے اڑی واقعے پر بھارتی فوج کا ساتھ دیا۔امید ہے اب قارئین سمجھ گئے ہوں گے کہ شروع میں کتوں کی نسل کا حوالہ کیوں دیا گیا اور بالخصوص کتوں کے بد نسل ہونے ،خالص نہ ہونے یا ناقص ہونے یا با ہر آوارہ کتوں کے ساتھ گھومنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خصلتوں کا حوالہ کیوں دیا گیا۔جس طرح بھارتی سمجھتے ہیں کہ ایک پیدائشی پاکستانی دوسرے پاکستانیوں کو برا بھلا کیوں کہہ رہا ہے اور جے ہند کے نعروں کے اندر کتنی سی اصلیت اور واقعیت ہے۔(م،ش)

مزید پڑھیں  بریکنگ نیوز: نواز، شہباز او رعمران کی جان خطرے میں ، کون اور کیسے حملہ کر سکتا ہے؟ ناقابل یقین انکشاف ہو گیا

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments