Nikah ka asal mamla

لڑکے کا لڑکے سے نکاح ،نکاح نامے پر لڑکی کی جگہ اسکے باپ کا نام درج کرنے پر نکاح خواں سمیت 10افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم ،نکاح خواں کی مجرمانہ غفلت سے شریعت کا مذاق اڑایاگیا ،درخواست گزار ،تفصیلات کے مطابق نواحی آبادی 445ای بی کے محمد طارق آرائیں نے ایڈیشنل سیشن جج بورے والا رضا اللہ خاں کی عدالت میں پٹیشن دائر کرتے ہوئے مئوقف اختیار کیا کہ نواحی گائوں 445ای بی کے نکاح خواں اور نکاح رجسٹرار لیاقت علی اور حافظ نذیر احمد میر عالم نے 4سال قبل اسی گائوں کے ذوالفقار علی نامی شخص کی بیٹی آمنہ بی بی کا نکاح لکڑ منڈی ایف بلاک کے رہائشی ڈاکٹر محمد دین سے پڑھایا او ر نکاح نامہ پر انہوں نے لڑکی کی جگہ اسکے والد کا نام لکھ کر اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا جس میں شادی کے تمام گواہوں نے بھی دستخط کر دیے اور متعلقہ یونین کونسل میں یہ نکاح رجسٹرڈ بھی کروادیا جو کہ نکاح خواں اور نکاح رجسٹرار کی مجرمانہ غفلت ہے اس درخواست کی روشنی میں عدالت نے تھانہ ماڈل ٹائون پولیس کو نکاح خواں ،نکاح رجسٹرار ،نکاح نامے پر درج دولہا ،دلہن اور تما م گواہوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا جبکہ پولیس نے ان احکامات کی روشنی میں اس واقعہ کو تصدیق کے بعد واضح کہا کہ مرد کا مرد سے نکاح نہیں ہوا بلکہ نکاح رجسٹرار کی تحریری غلطی ہے دوسری جانب میونسپل کمیٹی کے ریکارڈ میں دلہن کی جگہ آمنہ بی بی کا نام ہی درج ہے

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments

مزید پڑھیں  Shah Mehmood Qureshi Revealed PTI and PMLQ to collaborate in Elections 2018