Urne wali gari

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مہینوں کی افواہوں کے بعد اب اڑتی ہوئی کاروں کا وجود حقیقت کا روپ دھارتا نظر آ رہا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق چھوٹے طیارے بنانے والی کمپنی ٹیرافیوجیا (Terrafugia)نے کچھ عرصہ قبل فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن سے ایسے طیارے تیار کرنے کا اجازت نامہ حاصل کیا تھا جو عام آبادیوں میں سڑکوں پر بھی چلائے جا سکیں۔ اب یہ کمپنی معروف آٹوموٹیو مینوفیکچرر ’جیلی‘ نے خرید لی ہے جو ’والوو‘(Volvo)برانڈ کی مالک بھی ہے۔جیلی کا ٹیرافیوجیا کو خریدنا ہوا میں اڑتی ہوئی کاروں کے خواب کی تکمیل کی طرف اہم قدم ہے۔

مزید پڑھیں  نوجوان کے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے بعد نواز شریف کی لندن رہائش کے باہر نواز شریف کو چور کہنے پر گارڈز نے کیا کارروائی ڈال دی ۔۔؟ تشویشناک خبرآ گئی

ملکیت تبدیل ہونے کے بعد ٹیرافیوجیا کی طرف سے اعلان کر دیا گیا ہے کہ وہ 2019ءمیں دنیا کو پہلی فلائنگ کار دینے کے لیے پرعزم ہے۔یہ ممکنہ طور پر ہائبرڈ وہیکل ہو گی جس کا وزن 800کلوگرام کے لگ بھگ ہو گا۔ اس سے قبل ٹیرافیوجیا نے جو سڑکوں پر اترنے والا چھوٹا طیارہ بنایا تھا اس کا وزن محض 590کلوگرام ہے۔یہ 160کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 650کلومیٹر سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 10ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے۔ تاہم کمپنی جو اڑنے والی کار بنانے جا رہی ہے اس کی رفتار 320کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گی اور وہ سفر بھی زیادہ طویل کر سکے گی۔جیلی کے بانی اور چیئرمین لی شوفو کا کہنا تھا کہ ”ٹیرافیوجیا کی ٹیم اڑتی کار کے تخیل کو حقیقت کا روپ دینے اور دنیا کو ذرائع آمدورفت کی نئی جہت سے روشناس کرانے کے لیے پرعزم ہے۔ کمپنی میں ہماری سرمایہ کاری اس ٹیم کی صلاحیتوں اور ان کے ویژن پر اعتماد کی عکاس ہے۔“

دوستوں سے شئیر کریں

Comments

comments